السلام علیک یا فاطمۃ الزہرا
روز روز برینکنگ نیوزکے دوران دنیا بھر میں منائے جانے عالمی دن اور مختلف شخصیات کی برسی اور سالگرہ کی ہیڈلائنز سے اہم اپنے ٹی وی چینلز پر دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ کسے بھی بڑے سیاسی یا غیر سیاسی یا پھیر کوئی بھی اہم شخصیات کی برسی یا سالگرہ ہو توں دنیا بھر کا میڈیا سارے دن اُن کی کوریج میں لگارہتا ہے یہ بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہتی بلکہ شہر بھر میں جگہ جگہ بل بورڈز بینرز وغیرہ وغیرہ لگ جاتے ہیں پر
خدا کی پسندیدہ ترین شخصیت اور محبوب ترین بندے اور کُل عالمِ اسلام کے نجات دہندہ، خدا کے دن کے وارث اور عالم اسلام کے لئے دین کی روشنی پھیلانے والے ہم سب کے پیارے نبی پاک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کے بارے میں خدا بزرگ وار کچھ یوں کہتا ہے “
“ اے لوگو۔۔!! میں نے تمہارے درمیان ایک ایسے شخص نوں بھیجا ہے جو کہ میرے ہی نور سے پیدا کردہ ہے جو تمہیں راہ حق اور دین اسلام کی ترویج و تعلیم دے گا”۔۔(القرآن)
خدا عزوج نے نبی پاک کو نبی آخروزمان اور کلمہ حق کے ساتھ روح زمین پر اترا اور ان کے لیے ہی کائنات کو تحلیق کیا پر ہم نے اُن کے لئے یا اُن کی آل و اولاد کے لئے کچھ کیا نہیں میرے نزدیک یہی کہنا درست ہوگا کہ کچھ نہیں کرپائے اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں۔ ان سب باتوں کے پیچھے میرا مقصد یہ ہے کہ 3 جمادالثانی کو شہادت بی بی پاک حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہ دختر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوجہ حضرت علی علیہ السلام ابن ابوطالب علیہ السلام، مادر امام حسین و حسین علیہ السلام پر جو کہ اپنے والد محترم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحضت کے صرف اور صرف 90 دن بعد ہی دنیا سے رحضت ہوگئی۔ ان کی شہادت پر ہمارے ملک کی میڈیا نے کچھ کیا؟ نہیں کیا اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ آخر یہ ہمارے پیارے نبی کی بیٹی ہیں پر ایسا نہیں ہوا افسوس۔۔ ہاں اگر (خدا مجھے معاف فرمائے) یہاں اگر ذوالفقار بھٹو کی بیٹی کی شہادت ہوتی تے پورے پاکستان میں عقیدت و احترام سے منائی جاتی اور خراج عقیدت بھی پیش کیا جاتا موم بتیاں بھی روشن ہوتی پھول بھی چڑھائے جاتے پر جناب حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہ کی شہادت اتنی خاموشی سے گزار گئی افسوس صد افسوس کہ ہمیں خبر تک نہ ہوئی۔ ۔ ۔ افسوس کہ صد افسوس۔ ۔ ۔!!!
کسی چینلز نے ہیڈلائن تو کیا ٹکر تک چلانے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی۔ کیا کسی اخبار تک نے ان کو سنگل کالم کی جگہ دی؟ نہیں ایسا کچھ نہیں ہویا۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ کیا ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتنی ہی نسبت اور محبت و عقیدت ہیں، جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں ۔ ۔ ؟ شاید ہمیں انداز نہیں ابھی کہ جس آمد پر کُل کائنات کا مالک کھڑا ہوکر اس کا استقبال کرتا تھا اج ہمارے نزدیک اس کے لئے کسی بھی بڑے سے بڑے صحافی نے نہ قلم اٹھایا اور نہ ہی کوئی رپورٹ چلی تو کیا یہ ہمارے میڈیا کا دوغلا پن نہیں۔ ۔ ۔






















